Monday, 18 July 2016

گولڈن ڈکشنری - GoldenDict Free ✒ راہی حجازی

0 comments
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہوں جسے؟
مفتیان کرام اور علمائے عظام متوجے ہوں
 راہی حجازی
مکتبہ جبریل استعمال کرنے والے اس مکتبے کی افادیت اور ہمہ گیری سے واقف ہی ہونگے، بڑے خاصے کا مکتبہ ہے یہ۔کمپیوٹر پر تو اسکے استعمال میں کوئی مسئلہ نہیں کہ کمپیوٹر بڑے تن و توش کی ڈیوائس ہوتا ہے، لیکن موبائل پر اس مکتبے کے استعمال میں جزوی مسائل ہیں کہ اسکو تقریبا بارہ جی بی چاہئے ہوتی ہے جن میں چار جی بی لازما یہ فون میموری کی استعمال کرے گا۔ بڑے موبائل تو اسکا لوڈ اٹھا سکتے ہیں، ناز و غمزہ برداشت کرسکتے ہیں مگر چھوٹے موبائلوں کے تو پھیپھڑے ہی بول جاتے ہیں اور آنتیں آیت الکرسی پڑھنے لگتی ہیں۔ اس پریشانی کے حل کیلئے مکتبہ جبریل والوں سے رابطہ کیا،ان سے پوچھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ صرف اردو فتاوی کی فہرست کی بی جی ایل فائل بن جائے اور اس فہرست کی فائل کو موبائل پر چلا لیا جائے؟؟! ظاہر ہے صرف فہرست کی فائل ہونے کی وجہ سے حجم کافی کم ہوجائے گا۔اس فہرست کی مدد سے مسئلہ اتنا تلاش کرلیا جائے گا کہ وہ کس کتاب میں ہے اور کیا نمبر اسکی جلد اور صفحے کا ہے۔ پھر جسکو وہ مسئلہ دیکھنا ہوگا وہ کاغذی کتاب میں دیکھ لے گا یا کتاب بصیغہ پی ڈی ایف موبائل میں ہوگی تو اس میں دیکھ لے گا۔ فرمانے لگے ہاں ممکن ہے، اور تھوڑی دیر بعد فہرستِ فتاوی کی بی جی ایل فائل جوکہ صرف پانچ ایم بی پر مشتمل تھی ارسال کردی۔ ڈاؤنلوڈ کرکے جو گولڈن ڈکشنری میں فائل چلائی تو نتیجہ حسب منشا آیا۔ آپ بھی درج ذیل عمل اور پروسیجر کو انجام دیکر چیک کرسکتے ہیں۔
❶ سب سے پہلے گولڈن ڈکشنری انسٹال کرنی ہوگی۔ لنک 👇
❷ انسٹال ہوجانے کے بعد گولڈن ڈکشنری ایپ کو ایک بار اوپن کریں اور کلوز کو پریس کرتے ہوئے باہر آجائیں
❸ فہرستِ فتاوی کی یہ فائل ڈاؤنلوڈ کریں۔
(جن حضرات کے موبائل میں گولڈن ڈکشنری پہلے سے انسٹال ہے انکا عمل اور پروسیجر یہیں: شق نمبر ❸ سے شروع ہوگا ) فہرست فتاوی فائل کا لنک 👇
❹ فہرست فتاوی کی فائل ڈاؤنلوڈ ہوجانے کے بعد اس فائل کو گولڈن ڈکٹ (GoldenDict) نامی فولڈر میں موو کردیں۔۔۔ گولڈن ڈکٹ GoldenDict فولڈر فون میموری میں ملے گا
❺ موو کرنے کے بعد گولڈن ڈکشنری ایپ کو پھر کھولیں، اور نیچے بائیں طرف نظر آنے والے پروسیڈ proceed کو تھپتھپائیں اور جب تک ڈن done لکھا ہوا نہ آجائے تب تک انتظار کریں
❻ ڈن done آجانے کے بعد اب اردو کیبورڈ سے مسئلہ لکھیئے اور سرچ کیجئے
GET IT ON GOOGLE PLAY

عملِ امیدوارِ مغفرت ✒ راہی حجازی

0 comments
عملِ امیدوارِ مغفرت
 راہی حجازی

بعد نماز جمعہ چچا چھکن سے ملاقات ہوئی۔۔۔ علیک سلیک ہوئی، خیر خبر دریافت کی، وقت گذاری کی باتیں کرتے ہوئے گھر کی طرف رواں دواں ہوئے۔ چچا کے علم و عمل سے استفادہ کرنے کی غرض سے ہم نے ان سے سوال کہ :چچا جان! ایک بات پوچھنی تھی؟
چچا چھکن: جی فرماؤ!
میں: سب جانتے ہیں کہ آج نہیں تو کل،دیر سویر ہم سبھوں کو خدائے کن فکاں کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ کوئی عمل آپکا ایسا ہے جسے بارگاہ ذو الجلال و الاکرام میں پیش کیا جاسکے؟
چچا چھکن:(کچھ توقف کے بعد) ہاں.....!!! دو عمل ہیں جن پر امیدِ مغفرت ہے!
میں :(شوق و اشتیاق کی تصویر بن کر) کیا کیا؟؟؟
چچا چھکن: ایک یہ کہ فیس بک پر میں نے کبھی کوئی گروپ نہیں بنایا۔ ظاہر ہے جب بنایا ہی نہيں تو لوگوں کو انکی مرضی کے خلاف بھی ایڈ نہیں کیا ہوگا اور مرضی کے بنا بھی نہیں۔ ایک عمل تو یہ ہوا.......... دوسرا یہ کہ اپنی پوسٹوں یا تصاویر وغیرہ پر ٹیگ کرکے لوگوں کی زندگی کتی نہیں کی،عذاب نہیں بنائی، جب میں ہی کسی کیلئے عذاب نہیں بنا اور رحم،گو اپنے منھ جیسا ہی سہی،کرتا رہا تو اللہ رب العزت تو رحمت و رأفت کا سرچشمہ ہیں، آبشار ہیں بیٹے!

جاری مجری صحیح ✒ راہی حجازی

0 comments
جاری مجری صحیح
 راہی حجازی

ہمارے چچا چھکن جو پرانی وضع کے اور سادہ سی تعلیم حاصل کئے ہوئے ہیں انکو ہم نے چھیڑنے کی غرض سے پوچھا کہ چچا جان یہ جاری مجری صحیح کسے کہتے ہیں؟؟.......... فرمایا: جیسے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پہلے خلیفہ ہیں، دو سال انکی مدت خلافت ہے، ان کے انتقال کے بعد انکے جانشین حضرت عمر رضی اللہ عنہ بنائے گئے۔ اسے کہیں گے جاری مجری صحیح

سامانِ مغفرت دے گیا وہ ✒ راہی حجازی

0 comments
سامانِ مغفرت دے گیا وہ
 راہی حجازی

ہم تیز تیز قدموں سے چلتے چچا چھکن کے گھر کی طرف چلے جارہے تھے۔ گھر پہنچا ہی چاہتے تھے کہ سامنے سے چچا چھکن اشیائے خورد و نوش کا تھیلہ اٹھائے نظر آئے۔ حاضر خدمت ہوکر ہم نے سلام کیا آپ نے دعائیں دیں۔ پوچھا: میاں صاحب زادے اس وقت ادھر کیسے؟؟ آنکھیں بھی تمہاری آب رسیدہ ہیں۔گھر میں سب خیریت ہے؟ ہم نے کہا جی چچا جان الحمد للہ سب بخیر ہے۔ حاضر خدمت ہونے کا مقصد یہ ہے کہ کچھ دن قبل ہم نے آپ سے سوال کیا تھا آپ کے ایسے عمل کے بارے میں جسے اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا جاسکے جسکا بڑا شاندار فکاہیہ جواب آپ نے مرحمت فرمایا تھا۔ کیا یہی سوال آپ ہم سے دریافت نہیں فرمائیں گے؟؟ کیا آپ ہمارا وہ عمل جاننا نہیں چاہیں گے؟؟؟ ہاں ہاں۔۔۔۔۔ کیوں نہیں!! ضرور بالضرور جاننا چاہیں گے برخوردار! کہو.......... چچا جان! اللہ نے اگر ہم سے پوچھا تو عرض گذار ہونگے کہ ائے صاحبِ فرمان عالی: قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی..........!!! ذاتی عمل تو کوئی ایسا نہیں ہے، ہاں ان گناہ گار آنکھوں نے ممتاز قادری ــــــ مغفور له و شہید ان شاء اللہ ــــــ کے چہرہ پُرنور کی زیارت اور انکے سفر آخرت میں تخیلی شرکت ضرور کی ہے، چچا جان نے پوچھا کہ فیس بکی زیارت تو سمجھ میں آئی یہ تخیلی زیارت کس طور ؟؟.......... بایں طور کہ ظہر کی نماز سے عصر کی اذان تک آپکا خادم یہ تخیل کئے ایصال ثواب کرتے ہوئے بیٹھا رہا کہ ایک ہندوستانی بھی لیاقت آباد کے اُس میدان میں سر بگریبان و آشفتہ حال حاضر ہے

یہ سن چچا چھکن نے اشیائے خورد و نوش کا تھیلہ نیچے رکھا، پیشانی کو بوسہ دیا، جیب سے سو روپے کا کرارا نوٹ نکالا، نذر کیا اور دونوں شانوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: زندہ آباد میاں صاحب زادے زندہ آباد.......... بازی لے گئے تم.......... ہمارا بھی دھیان رکھنا بیٹے!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زندگی نام اسی موج بے تاب کا ہے،میکدے سے جو اٹھے،دار و رسن تک پہنچے

ساحلِ مراد کے پار ✒ راہی حجازی

0 comments
ساحلِ مراد کے پار
 راہی حجازی
دن بھر روزہ، رات بھر تہجد گذاری و آہ و زاری و نعت خوانی کے بعد،سر پر عمامہ اور عمامے پر نعلین شریفین کی کلغی و طرہ و اتاقہ سجائے،زہد و اتقا،عفاف و قناعت اور صلاح و تقوی کے اثرات لئے وہ جس سج دھج کے ساتھ مقتل کی طرف گیا اس نے نہ صرف شان کو سلامتی عطا کی بلکہ یہ سلامتیِ شان اسکی قدم بوسی کرتی،تبرک و تیمن حاصل کرتی اور اپنے سر پر دستِ شفقت رکھنے کی بے طرح آرزو اور منت کرتی نظر آئی۔۔۔۔۔۔یہ رشکِ علماء و صلحاء و اولیاء و مشائخ سج دھج ایسی تھی جو عاشق زار کی ہمہ گیر اور بے پناہ محبوبیت و مقبولیت کا نقش دوام بن گئی اور تا صبح قیامت بنی رہے گی۔ ڈھیروں سلام اس پر جو طوفانوں سے رشتہ استوار کرکے سب جزیرے مسترد کر درست سمتِ سفر میں کشتیِ جاں کو کھیتا ہوا ساحل ِمراد کے پار جا اترا ۔۔۔۔ ان شاء اللہ ان شاء اللہ ۔۔۔ اللھم اغفر له و ارحمه و ارفع درجته فی جنتک

■واٹس ایپ، دار العلوم دیوبند اور نصاب تعلیم■▪ ✒ راہی حجازی

0 comments
■واٹس ایپ، دار العلوم دیوبند اور نصاب تعلیم■
آجکل پورے زور و شور کے ساتھ مدارس کے نصاب پر بالعموم،اور اور دار العلوم دیوبند کے نصاب پر بالخصوص،گرما گرم بیانات اور تبصرے جاری ہیں، تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ مسلمانوں کی ہزار سالہ زبوں حالی کے پیچھے انہی مدارس کے نصاب کا ہاتھ ہے،اور یہ تاثر دینے والے کوئی غیر نہیں اپنے ہی ہیں،ان خیر اندیشان و بہی خوانِ ملت اسلامیہ سے یہ سوال کرنا جائز بنتا ہے کہ کیا نونہالانِ توحید اور مسلمان بچے صرف مدرسوں میں پڑھتے ہیں؟؟ مدرسوں میں تو زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد پڑھتے ہونگے،باقی جتنے بھی فیصد بچتے ہیں وہ سارے اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہیں، اب اِسے کہاں کی دانشمندی و ہوش مندی قرار دیا جائے کہ اسی نوے فیصد کو چھوڑ چھاڑ کر دو یا پانچ فیصد کے ہی بہی خواہ و ہمدرد بنے ہوئے ہیں۔ ملت اسلامیہ کا اصل سرمایہ تو اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہے،براہ کرم انکو بھی بنائیے جامع بین العلوم الشرعیة و العصریة۔ آپ یہ تو چاہتے ہیں کہ مدارس سے جہاں ایک طرف علما و صلحا و ارباب افتاء نکلیں، وہیں دوسری طرف سائنسدانوں و اطباء و انجینئرز بھی نکلیں۔ اچھی بات ہے،اس میں کوئی قباحت نہیں، مگر اس زاویے کو کبھی کبھار ایک سو اسی درجے(متوازی سمت )پر بھی لے جایا کریں،لے جاکر کبھی تو ایک اجلاس اس عنوان پر بھی بلائیے کہ دینی و دنیاوی علوم کی اسلام میں کوئی تقسیم نہیں کی گئی،پس جب تقسیم نہیں ہے تو اے اسکولوں،کالجوں،یونیورسٹیوں کے سیاہ و سفید کے مالکو!! تمہارے اداروں سے صرف دنیاوی علوم کے ماہرین ہی کیوں نکل رہے ہیں؟؟محدثین و مفسرین و فقہاء کی کھیپ ان سے نکلتی ہوئی ہمیں نظر کیوں نہیں آتی جبکہ علوم کے درمیان تفریق و تقسیم نہ ہونے کی گردان بھی آپ اہل دانش ہی کرتے ہیں،یہ تفریق نہ ہونے کا پہاڑا بھی روزانہ کی بنیادوں پر تمہارے ہی اداروں میں رٹایا اور حرز جان بنایا جاتا ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ تمہارے اداروں کے نصاب میں بھاری گڑبڑ جھالا ہے،فرسودہ نظام تعلیم ہے۔ تبھی یہ الخوارزمی،ابن اسحاق کندی اور ابن فرناس ایسے نابغے،عباقرہ اور یگانہ روزگار افراد پیدا نہیں کرپا رہا۔ وقت آگیا ہے کہ اس نصاب میں بڑی تبدیلی کی جائے اور اسے جامع بین العلوم الشرعیة و العصریة بنایا جائے،سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ عربی زبان اور قرآن و حدیث و فقہ اپنے تمام متعلقات کے ساتھ لازمی مضمون بناکر،قدیم و جدید کے حسین امتزاج کا حامل نصاب تعلیم ان اداروں میں نافذ کیا جائے تاکہ ان کالجوں اور یونیورسٹیوں سے جہاں ایک طرف سائنسدان و اطباء و انجینئرز نکلیں،وہیں دوسری طرف ماہرین شریعت: علماء و فقہاء و اصحاب افتاء بھی نکلیں، جن سے اگر کوئی سورہ اخلاص سنانے کو کہے تو وہ اس سوال کو ذاتی زندگی میں مداخلت کا نام دیکر ہوا میں نہ اڑائیں بلکہ آگے بڑھ کر سائل سے کہیں کہ آپکو میں سورہ اخلاص ضرور سناؤں گا، مگر وہ تو بہت چھوٹی سورت ہے، تشنگی بجائے ختم ہونے کے اور بڑھ جائے گی، میرا من کرتا ہے کہ سورہ اخلاص سے پہلے آپکو سورہ بقرہ سناؤں،بس اتنا کہے اور شروع ہوجائے بسم اللہ الرحمن الرحیم،الم،ذالک الکتاب لاریب فیه،ھدی للمتقین .......... فاصرنا علی القوم الکافرین (ترتیل میں اگر سنائیں تو اور بھی اچھا رہے گا)سائل بس کرنے کو کہے تو بھی اسکی نہ سنے اپنی ہی سناتے رہے،فجر تک اسکو کھڑا رکھے،تاکہ پھر ایسے سوال کی کسی کو جرأت نہ ہو۔۔۔۔ حضرات خیر اندیشان و بہی خوان!!کبھی اس دوسرے زاویئے کیلئے بھی تو اجلاس بلائیے، اجلاس نہ بلا سکتے ہوں تو کبھی ان کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تقریر کرکے دیکھئے،پھر دیکھئے کیسے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوتا ہے،دوسروں پر جمود و تعطل کا الزام لگانے والوں کو بذات خود اس جمود کی دلدل میں گلے گلے دھنسے دیکھیے گا۔اور اگر آپکو وہاں کچھ مجبوریاں اور پا شکستگیاں نظر آئیں تو براہ کرم یہاں بھی مجبوریاں دیکھ لیں،یہاں مجبوریاں دیکھنے کیلئے ناسا کی کسی طاقتور ترین دوربین کی ضرورت نہیں ہے،بس یہ جو سر اوپر کو الل رہا ہے اسکو نیچا کرکے ایک نظر پاؤں کی طرف ڈال لیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
طور کی مٹی سے تخلیقِ ید بیضا کر
یہ خبر آپ نے یقینا پڑھی ہوگی اور ریکارڈ پر یہ موجود بھی ہے کہ واٹس ایپ کو معرض وجود پر لانے والے جین کوم اور ان کے ساتھی برائن ایکٹن نے واٹس ایپ کو تشکیل دئے جانے سے پہلے فیس بک میں ملازمت کیلئے درخواست گذاری تھی جو شرف قبولیت نہ پاسکی اور یوں انکو ملازمت نہ مل سکی،بعد ازاں انہوں نے دیار عشق میں اپنا مقام،نیا زمانہ اور نئے صبح و شام پیدا کرنے کیلئے اپنی تمام صلاحتیوں کو بروئے کار لاکر نجی بنیادوں پر واٹس ایپ تشکیل دیا،پھر اسکو پروموٹ کیا،مشتہر کیا، لوگوں کے درمیان یہ ایپلیکیشن پہنچی تو انکے دلوں میں گھر کر گئی،آج صورت حال یہ ہے کہ واٹس ایپ کی ہم جنس و ہم مشرب،کہیں زیادہ فیچرز اور خصوصیات و مزایا کے ساتھ، بیسیوں ایپلیکیشنز ایپ اسٹور پر موجود ہیں مگر کم فیچرز کے باوجود ہمہ گیر مقبولیت و محبوبیت کا جو کلاہِ افتخار واٹس ایپ کے سر سجا ہوا ہے وہ کسی اور کے سر کا مقدر نہ بن سکا، ایک دن وہ بھی آیا جب دنیا نے دیکھا کہ فیس بک ــــــ جس نے نوکری بھی نہیں دی تھی ــــــ خود چل کر واٹس ایپ کے دروازے پر آیا اور اس شرط کے ساتھ انیس ارب ڈالر کی بڑی ڈیل میں اسے خریدا کہ واٹس ایپ کے ملازمین کو بھی فیس بک اپنے یہاں نوکری دینے کا پابند ہوگا۔ یہ خبر نما واقعہ بیان کرنے کا مقصد؟مقصد یہ ہے کہ چلئے ارباب مدارس اور دارالعلوم آپکی بات نہیں مان رہے، آپکے مطالبہ کو در خور اعتنا نہیں سمجھ رہے، نہیں مان رہے تو نہ مانیں، منوانے اور سمجھانے کیلئے اب آپکو اجلاس بلانے کی ضرورت نہیں،بانیانِ واٹس ایپ نے نوکری نہ ملنے کے بعد پریس کانفرنسیں بلا بلاکر رونے نہیں ڈالے تھے کہ دیکھو دنیا والو دیکھو! کیسا ظلم عظیم ہمارے ساتھ کیا جارہا ہے، کیسا غضب ٹیلینٹ اور صلاحیت ضائع کی جارہی ہے۔ نہیں نہیں،کچھ بھی نہیں۔ بجائے ان منفی باتوں پر اپنی توانائیاں خرچ کرنے کے،انہوں نے نجی بنیادوں پر پوری طرح یکسو ہوکر اپنی صلاحیتوں کو منوانے کیلئے اولا ذہن میں ایک ایپ کا خاکہ ترتیب دیا، پھر اسے کینوس پر اتارنے میں ہمہ تن مصروف ہوگئے،اترگیا تو اس میں رنگ بھرے،پھر مارکیٹ میں لائے، اور اسکو وہ رفعت و عروج عطا کیا کہ بانیان واٹس ایپ نے آم تو بیچے ہی،گٹھلیاں بھی آم کے دام بیچ دئے،انیس ارب ڈالر بھی لئے،ساتھ میں ان سے نوکری پر بھی عہد و پیمان و ایگریمنٹ لے لیا۔ آپ بھی مثبت کام کیجئے، بجائے اجلاس بلانے یا قریہ قریہ، شہر شہر اور کو بہ کو نصابِ مدارس میں ترمیم و تبدیلی پر تقاریر کرنے اور گلا بٹھانے کے آپ کے ذہن میں جو نصابی خاکہ ہے اسے پیکر عطا کیجئے،اُس نصاب کا حامل کوئی ادارہ قائم کیجئے،اپنی توانائیاں اس پر صرف کیجئے، دن رات ایک کرنا چاہتے ہوں تو دن رات بھی ایک کیجئے، اپنی تمام ممکنہ مساعی کو مجتمع فرما کر اُس ادارے کی اور اسکے نصاب کی افادیت قوم پر ثابت کردیجئے اور بس،اگر آپ نے افادیت ثابت کردی تو راہی حجازی کو لکھ کر دینے کی ضرورت نہیں ہے کہ آپ بھی، آپ کا ادارہ بھی، آپ کا نصاب بھی اُسی طرح ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا جس طرح بانیان واٹس ایپ اور واٹس ایپ ہاتھوں ہاتھ لئے گئے تھے۔جادو وہی جو سر چڑھ کر بولے۔ اُس وقت آپکو لوگوں کے پاس جاکر اور تقاریر کر کے کچھ کہنے کی ضرورت نہ ہوگی، قوم تو قوم خود مخالفین چل کر آنے کو اور آپکے ادارے کی کنڈی کھٹاکھٹانے کو اپنی سعادت سمجھیں گے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کیا ٹھوک بجا کے تم نے حکم لگایا ہے؟؟؟
حضرات اہل علم یہ بات جانتے ہی ہونگے کہ مدارس ایک خاص ضرورت و مقصد کے تحت قائم کئے گئے تھے اور کئے جاتے ہیں۔ آئیے اس خاص مقصد کو تازہ کر لیتے ہیں:
‌‌"‌‌بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے دارالعلوم کی بنیاد ڈالتے ہوئے زبان حال سے یہ صدا بلند کی کہ ہماری تعلیم کا مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو رنگ ونسل کے اعتبار سے ہندی وسندھی، ایرانی وافغانی، فراسانی وترکستانی ہو لیکن روح کے اعتبار سے اسلامی ہوں ‘‘ (مثالی شخصیات ومقدمہ سوانح قاسمی‌‌"
اور یہ ایک دوسرا اقتباس:
ہندوستان کی سابق ریاست حیدرآباد دکن کے تاجدار میر عثمان علی خاں معروف بہ ‌‌‌‌"‌‌نظام دکن" نے حضرت مولانا حافظ احمد صاحبؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند سے یہ خواہش کی تھی کہ اگر دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل علماء ہرسال سارے کے سارے ریاست حیدرآباد دکن کو بھیج دیے جائیں تو انھیں اعلیٰ قسم کی ملازمتیں دی جائیں گی، حضرت مہتمم حافظ احمد صاحبؒ نے یہ مسئلہ اُس وقت کے سرپرستِ دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ کے سامنے پیش کیا، حضرت گنگوہیؒ نے فرمایا: ’’بھئی! ہم طلبہ کو اچھی اور اونچی ملازمتوں کے لیے نہیں پڑھارہے ہیں ؛ بلکہ ہم اس لیے پڑھاتے ہیں کہ : مسجد اور قرآن کے مکاتب آباد رہیں اور مسلمانوں کو نمازیں اور قرآن پڑھانے والے ائمہ اور اساتذہ ملتے رہیں‘‘ (ماہ نامہ: اتحاد علماء دیوبند ص۵۶)
سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا مقصد کے تحت یہ نصاب افراد تیار کررہا ہے یا نہیں؟؟ اگر کر رہا ہے تو پھر نصاب سے چھیڑ چھاڑ کیوں؟ اس نصاب نے پہلے بھی ضرورت کی تکمیل کی تھی آگے بھی ان شاء اللہ کرتا رہے گا،اور اگر مذکورہ بالا مقصد و ضرورت اب نہیں رہی ہے یا اس میں بڑی تبدیلی کی ضرورت آپ محسوس کرتے ہیں تو آپکو بالترتیب دوسرا مقصد یا بڑی تبدیلی کی ضرورت نہ صرف بالدلائل ثابت کرنی ہوگی بلکہ سامنے والے کے دلائل کا جواب بھی دینا ہوگا۔ ہم تھوڑی دیر کیلئے یہ فرض کرکے چلتے ہیں کہ آپ ثابت کرچکے ہیں،تو سوال کھڑا ہوگا کہ کیا اس دوسرے مقصد اور بڑی تبدیلی کا تجربہ سیدھا دار العلوم دیوبند یا اس کے قبیل کے اداروں پر کیا جائے گا؟؟ کیا تجربات کی دنیا میں ایسا ہی دیکھا جاتا ہے؟ دیکھا تو یہ جاتا ہے کہ جب سائنسدان کوئی مفیدِ انسانیت نئی دوا دریافت کرتے ہیں تو اولا چوہوں، مینڈکوں، خرگوشوں اور بندروں وغیرہ پر اسکا تجربہ کرتے ہیں، پہلے ان پر دوا کی افادیت چیک کی جاتی ہے، ایک بار نہیں ہزار بار چیک کی جاتی ہے، ہزاروں بار میں مطلوبہ نتائج و اثرات ملنے کے بعد ہی انسان کا نمبر آتا ہے اور انسانوں میں بھی یورپ و امریکہ کے انسان نہیں،کسی افریقی غریب ملک کے ‌‌"‌‌بے قدر و بے حیثیت ‌‌"‌انسان۔ لیکن یہاں دیوان گانِ ترمیمِ نصاب الٹی چال چلتے نظر آتے ہیں۔ اپنی ایک ‌‌"‌‌مفید" نئی دریافت(ترمیم و تبدیلی) کا بجائے جانوروں (شہری سطح کے چھوٹے مدارس)پر تجربات کرنے کے، یک مشت و یک قدم انسانوں کے جوہری خلاصے: آئن اسٹائن و اسٹیفن ہاکنگ (دار العلوم دیوبند) ایسے بڑے دماغوں پر تجربہ کے آرزومند و متمنی نظر آتے ہیں۔ اللھم یا للعجب۔۔۔ ‌‌انسانوں پر بعد میں تجربہ کیجئے گا، پہلے اپنی دوا کی افادیت چوہوں،بندروں اور خرگوشوں پر چیک کر لیجئے،کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ پہلے مرحلے میں ہی بیدار مغز و ہوش مند انسان پر اسکا تجربہ کرنے جائیں اور تجربہ یا دوا فیل ہوجائے تو نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم کی عملی تفسیر کے جملہ حقوق اپنے نام محفوظ کرا بیٹھیں۔

بشری ہیرا تراش ✒ راہی حجازی

0 comments

بشری ہیرا تراش
 راہی حجازی

پینڈولم گھڑیال نے رات بارہ بجے کے گھنٹے پورے کئے،بعد ازاں خاموشی اور سناٹا ابھی گہرا ہوا ہی تھا کہ ڈور بیل چیخ پڑی اور رات کے سناٹے کو چیرتی ہوئی سنسنی پیدا کرگئی، میاں بیوی دونوں کے چہرے سراپا سوال و تعجب کا پیکر بن گئے، دروازے کے قریب جاکر پوچھا کون؟؟؟ جواب آیا: میاں صاحب زادے یہ ہم ہیں تمہارے چچا چچا چھکن.......... آااااخاہ .......... چچا جان آپ؟.......... بس ابھی کرتہ پہن،ٹوپی اوڑھ انسان بن کر حاضر خدمت ہوا۔۔۔۔۔ فورا دونوں چیزیں زیب تن و سر کیں اور قدم بوسی کیلئے دروازہ کھولا۔ چچا جان دونوں باہیں مبارک بادی کیلئے پھیلائے نظر آئے، چہرہ جیت کی خوشی سے لالہ فام ہورہا تھا تو ہونٹ پان کی سرخی سے۔۔۔۔ ہم بھی بے اختیارانہ و والہانہ انداز سے بغلگیر ہوگئے.......... ما شاء اللہ ما شاء اللہ، میاں صاحب زادے مزا آگیا آج تو.......... دیکھا تھا بیٹے ؟؟؟؟.......... جی جی چچا جان !! آئیے اندر قدم رنجہ فرمائیں، کچھ کھاتے ہیں کچھ سنتے سناتے ہیں۔۔۔ اگل دان اور سادہ پانی کا گلاس بہم پہنچایا گیا،اور نصف بہتر شریک سے ناشتہ تیار کرنے کو کہا گیا،ساتھ ساتھ ہاتھ بھی بٹایا۔تیار جب ہوگیا تو لیکر حاضر خدمت ہوا۔ دوران چائے نوشی بھی چچا چھکن کے چہرے کی خوشی دیکھتے بنتی تھی۔ ہم نے کہا: ویسے تو یہ انتہائی حوصلہ افزا جیت رہی، مگر میں ٹیم کے بارے میں بالعموم اور جنابِ کپتان صاحب کے بارے میں بالخصوص آپ کے جذبات و احساسات و تاثرات سننا پسند کرونگا.......... چچا چھکن نے سر کو عمودی شکل میں جنبش دیتے ہوئے ایک لمبا ہممممم کہا اور چاہئے کا جُرعہ لیا، ذرا دیر اسکو منھ میں رکھ کرذائقہ لیا،ایک نقطے پر دیکھتے رہے جیسے صغری و کبری کو ترتیب دیکر کسی نتیجے و مضمون تک پہنچنا چاہتے ہوں۔ پھر پیالی نیچے رکھتے ہوئے گویا ہوئے: جنابِ کپتان صاحب کے بارے میں کیا کہا جائے؟!!!.......... ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے،کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت غالب کے زمانے میں اچھے سخن وروں کی کمی نہیں تھی،ایک سے ایک عمدہ تھے،مگر انکے پاس غالب کا سا یہ ‌‌"‌‌اور" اور انفرادیت نہیں تھی۔ ایسے ہی کچھ ہمیں جناب کپتان صاحب لگتے ہیں۔ کپتان تو یقینا اور بھی بہت اچھے ہونگے مگر موصوف کا جو اندازِ کپتانی ہے یہ انداز کبریتِ احمر سے زیادہ نادر الوجود ہے۔ موصوف کی کپتانی میں انفرادیت اور انوکھے پن کا رنگ انتہائی شوخ ہے،چونکہ ژرف نگاہی کے مالک ہیں اس وجہ سے انکا ویژن اور پیش بینی حیرت انگیز ہے۔ اپنی اسی ژرف نگاہی کے باعث جناب عالی سرعت سے سوچتے ہیں،سرعت سے منصوبہ بندی کرتے ہیں اور بہ جلد اسے عملی جامہ پہنانے کو آستین چڑھاکر اور بعض اوقات ‌‌"گلوز اتار کر‌‌"مورچہ سنبھال لیتے ہیں،ان کے بَہاری و بہاریِ ــــــ ریاست بہار ہی کا حصہ تھا کبھی جھارکھنڈ ــــــ جسم میں عجیب سا دماغ ہے، جو شعلے کی مانند روشن،شیشے کی طرح شفاف،اور سیماب کی طرح بیتاب رہتا ہے، شاید یہ دماغ کسی لمحے پرسکون نہیں رہتا،ہر دم سوچتا اور خاکے بناتا رہتا ہے، اسی لئے انکے بال پر قدرتا منفی اثر پڑا ہے،منفی اثرات کی بے پناہ یلغار ہی کی وجہ سے انگی شیونگ اور سر چاندی سے چمک اٹھا ہے۔ بیٹے بعض دفعہ روشنی طبع بھی بلائے جاں ہوتی ہے، دنیا کے زیادہ سوچنے والے دماغ کے حامل لوگ اندر ہی اندر جلتے اور پگھلتے رہتے ہیں جسکی وجہ سے انکا وجود نسبتا جلدی تحلیل ہوتا نظر آتا ہے۔ جناب موصوف کے کسرتی اور گھٹیلے جسم میں دماغ مشین کی طرح ہمہ وقت متحرک رہتا ہے حتی کہ جاں کنی کے عالم میں بھی ــــــ جب لوگ ریورس سوئپ/دل اسکوپ کھیلنے اور چھکے سے اپنی ٹیم کو جتانے کی لا زوال و انمٹ غلطی کرجاتے ہیں ــــــ جناب موصوف انتہائی پرسکون رہ کر سچویشن اور موجودہ صورت حال کے پیچیدہ و پر پیچ و خم مسائل کا حل ڈھونڈھتے اور فیصلوں کے نئے نئے انداز کی نقشہ گری کرتے نظر آتے ہیں۔ انہیں جتنا کام کرنے کا سلیقہ ہے اتنا ہی کام لینے کا سلیقہ بھی ہے،وہ صرف ‌‌فنشر نہیں ہیں بلکہ فنشر گر بھی ہیں، رجال سازی و بشری ہیرا تراشی کی صلاحیت ان میں وہبی و خدا داد و لدنی ہے۔ بعض لوگ اپنی پوری زندگی میں تمام ممکنہ کوششوں کو بروئے کار لاکر ایک آدھ ہی آدھا ادھورا ہیرا تراش پاتے ہیں،مگر جناب موصوف نے ایک ہی مقابلے میں دو بشری ہیرے تراش دئے، انیسویں اوور کیلئے بقول شعیب اختر اپنے نوجوان سپاہی سے بات کی کہ ٹھیک ہے آج تم سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں،چوکا بھی گیا ہے،کیچ بھی چھٹا ہے،لو اسکورنگ مقابلے میں ایک مہنگا اوور بھی ڈالا ہے، مگر ایسا زندگیوں میں چلتا رہتا ہے ہوتا رہتا ہے،یہ تم نے یقینا جان بوجھ کر نہیں کیا ہوگا بس ہوگیا ہوگا۔کرنا اب تمہیں یہ ہے کہ ان سب کو ڈیلیٹ مار دو اور لو یہ بیسویں سے بھی اہم انیسواں اوور ڈالو،مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تم یہ کام کرسکتے ہو کہ تم میری فرنٹ لائن کے سپاہی ہو،آخر کوئی تو وجہ ہوگی جو تمہیں فرنٹ لائن میں رکھا گیا ہے،تم میں صلاحیت ہے میں تمہیں بتا رہا ہوں۔ تم یہ کام خوش سلیقگی کے ساتھ کرسکتے ہو۔ بس ایک چیز کی ضرورت ہوگی، کونسٹریشناور ترکیز کی،ذہن سے تمام منفی چیزوں کو نکال دو اور پوری ترکیز کے ساتھ ــــــ جوکہ تمہارا خاصہ ہے ــــــ یہ اوور اپنی صلاحیتوں کے شایان شان ڈالدو۔ اگر تم نے ڈال دیا تو پھر دیکھنا تمہارے چرچے کیسے چہار جانب ہوتے ہیں،لوگ تمہاری مس فلڈنگ بھول جائیں گے،کیچ ڈراپنگ بھی بھول جائیں گے،تمہارے تیسرے اوور کی فیاضی بھی بھول جائیں گے، یاد رکھیں گے تو بس یہ انیسواں اوور یاد رکھیں گے......................... یہ ہوتا ہے میاں صاحب زادے کام لینے کا طریقہ.......... اسے کہتے ہیں بشری ہیرا تراشی۔۔۔۔۔ اپنے نوجوان کھلاڑی کو اعتماد دیا،نوجوان بھی وہ جسکو ڈیبیو کئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں،اور ایسا اعتماد دیا کہ اس کھلاڑی نے ــــــ جسکا دن بھی نہیں تھا،اپنی فلڈنگ اور بالنگ میں کی جانے والی قاتلانہ اور بھیانک غلطیوں کے باعث جس کے پورے وجود پر دباؤ اور احساسِ جرم کی خیمہ زنی تھی ــــــ صرف چھ رن کا انتہائی کنجوسانہ،جز رسانہ اور کفایت شعارانہ اوور ڈالا.............................. اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔. یہ تو چائے ہی ٹھنڈی ہوگئی بیٹے ۔۔۔۔ لائیے میں اور بنوا لاتا ہوں .......... نہیں بیٹے!!! اتنی رات گئے کسی کو بار بار پریشان کرنا مناسب نہیں......... مگر چچا جان آخری اوور تو ابھی باقی ہی ہے،اس پر بھی میں آپکا تبصرہ سننے کا خواہش مند و آرزو مند ہوں۔۔۔۔۔۔ چچا چھکن نے چائے کا،جوکہ ٹھنڈی ہوچکی تھی،پوراجرعہ لیا اور کھڑے ہوتے ہوئے گویا ہوئے: میاں صاحب زادے!!! آخری اوور بيان کرنے کی نہیں دیکھنے کی چیز ہے.......... آاااخاہ چچا جان! یہ تو آپ جان بچا رہے.......... نہیں نہیں، جان نہیں بچا رہا،جو بات تھی وہ سچی سچی عرض کردی۔ آخری اوور کو ڈسکرائب کرنے کیلئے،خاکہ اسکا بنانے کیلئے تمہارے چچا چھکن کے پاس جملے و تعبیرات اور کاغذ قلم و آلات نوشت نہیں ہے۔ اس اوور کا ڈاؤنلوڈ لنک چاہئے تھا مجھے، اسی لئے میں یہاں آیا تھا.......... اچھا اچھا....اتنی جلدی تو شاید نہ ملے کہ اپلوڈ نہ ہوا ہو گا،ہاں صبح تک ڈاؤنلوڈ کیلئے یقینا دستیاب ہوجائے گا.......... ٹھیک ہے،ڈاؤنلوڈ لنک مل جائے تو مجھے واٹس ایپ کیجئے گا۔ اور ہاں.......... وریندر سہواگ کی ہندی کمنٹری والا اگر ملے تو زیادہ اچھا رہے گا کہ اس سابق یگانہ روزگار کا جوش و جذبہ آخری اوور میں اوجِ کمال پر تھا، یہ بھی خاصہ کی چیز تھی