ساحلِ مراد کے پار
✒ راہی حجازی
دن بھر روزہ، رات بھر تہجد گذاری و آہ و زاری و نعت خوانی کے بعد،سر پر عمامہ اور عمامے پر نعلین شریفین کی کلغی و طرہ و اتاقہ سجائے،زہد و اتقا،عفاف و قناعت اور صلاح و تقوی کے اثرات لئے وہ جس سج دھج کے ساتھ مقتل کی طرف گیا اس نے نہ صرف شان کو سلامتی عطا کی بلکہ یہ سلامتیِ شان اسکی قدم بوسی کرتی،تبرک و تیمن حاصل کرتی اور اپنے سر پر دستِ شفقت رکھنے کی بے طرح آرزو اور منت کرتی نظر آئی۔۔۔۔۔۔یہ رشکِ علماء و صلحاء و اولیاء و مشائخ سج دھج ایسی تھی جو عاشق زار کی ہمہ گیر اور بے پناہ محبوبیت و مقبولیت کا نقش دوام بن گئی اور تا صبح قیامت بنی رہے گی۔ ڈھیروں سلام اس پر جو طوفانوں سے رشتہ استوار کرکے سب جزیرے مسترد کر درست سمتِ سفر میں کشتیِ جاں کو کھیتا ہوا ساحل ِمراد کے پار جا اترا ۔۔۔۔ ان شاء اللہ ان شاء اللہ ۔۔۔ اللھم اغفر له و ارحمه و ارفع درجته فی جنتک










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔