Monday, 18 July 2016

سامانِ مغفرت دے گیا وہ ✒ راہی حجازی

0 comments
سامانِ مغفرت دے گیا وہ
 راہی حجازی

ہم تیز تیز قدموں سے چلتے چچا چھکن کے گھر کی طرف چلے جارہے تھے۔ گھر پہنچا ہی چاہتے تھے کہ سامنے سے چچا چھکن اشیائے خورد و نوش کا تھیلہ اٹھائے نظر آئے۔ حاضر خدمت ہوکر ہم نے سلام کیا آپ نے دعائیں دیں۔ پوچھا: میاں صاحب زادے اس وقت ادھر کیسے؟؟ آنکھیں بھی تمہاری آب رسیدہ ہیں۔گھر میں سب خیریت ہے؟ ہم نے کہا جی چچا جان الحمد للہ سب بخیر ہے۔ حاضر خدمت ہونے کا مقصد یہ ہے کہ کچھ دن قبل ہم نے آپ سے سوال کیا تھا آپ کے ایسے عمل کے بارے میں جسے اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا جاسکے جسکا بڑا شاندار فکاہیہ جواب آپ نے مرحمت فرمایا تھا۔ کیا یہی سوال آپ ہم سے دریافت نہیں فرمائیں گے؟؟ کیا آپ ہمارا وہ عمل جاننا نہیں چاہیں گے؟؟؟ ہاں ہاں۔۔۔۔۔ کیوں نہیں!! ضرور بالضرور جاننا چاہیں گے برخوردار! کہو.......... چچا جان! اللہ نے اگر ہم سے پوچھا تو عرض گذار ہونگے کہ ائے صاحبِ فرمان عالی: قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی..........!!! ذاتی عمل تو کوئی ایسا نہیں ہے، ہاں ان گناہ گار آنکھوں نے ممتاز قادری ــــــ مغفور له و شہید ان شاء اللہ ــــــ کے چہرہ پُرنور کی زیارت اور انکے سفر آخرت میں تخیلی شرکت ضرور کی ہے، چچا جان نے پوچھا کہ فیس بکی زیارت تو سمجھ میں آئی یہ تخیلی زیارت کس طور ؟؟.......... بایں طور کہ ظہر کی نماز سے عصر کی اذان تک آپکا خادم یہ تخیل کئے ایصال ثواب کرتے ہوئے بیٹھا رہا کہ ایک ہندوستانی بھی لیاقت آباد کے اُس میدان میں سر بگریبان و آشفتہ حال حاضر ہے

یہ سن چچا چھکن نے اشیائے خورد و نوش کا تھیلہ نیچے رکھا، پیشانی کو بوسہ دیا، جیب سے سو روپے کا کرارا نوٹ نکالا، نذر کیا اور دونوں شانوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: زندہ آباد میاں صاحب زادے زندہ آباد.......... بازی لے گئے تم.......... ہمارا بھی دھیان رکھنا بیٹے!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زندگی نام اسی موج بے تاب کا ہے،میکدے سے جو اٹھے،دار و رسن تک پہنچے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔