اجرتِ تراویح اور صومِ مریم
🖋 راہی حجازی
"السلام علیکم چچا جان "
"آخخااااااہ۔ میاں صاحب زادے!!! ما شاء اللہ ما شاء اللہ۔۔۔ و علیکم السلام و رحمة اللہ بیٹے۔۔۔۔ عید کا چاند عید ہی کے موقعے سے نظر آیا۔۔۔ کہاں رہے اتنے دنوں..........؟؟ پورے رمضان نہ کوئی واٹس ایپ نہ کوئی وائیبر"
"بس وہ چچا جان مصروفیت تھی تھوڑی زیادہ۔ ۔ آپ کو تو معلوم ہی ہے رمضان میں شیڈیول بہت ٹائٹ ہوجاتا ہے "
"جی جی۔۔۔۔ صحیح کہا ۔۔۔۔۔ اور سناؤ۔۔۔ کوئی تازی پرانی؟ "
"آجکل کی تازی تو یہ ہے کہ ہر جگہ بس آپ کے ہی چرچے ہیں۔۔ آپ کا محلہ تو آپکا، ہمارے محلے تک میں آپکا نام گونج رہا ہے"
"ہائیں۔۔۔۔۔۔ ایسا کیا کردیا میں نے؟ "
"سنا آپ نے ختم قرآن کے موقعے سے حافظ صاحب کو ہدیہ /انعام دیا اور دیا بھی کھل کر علی رؤوس الاشہاد .......... ؟؟! "
"ہاں یہ بات تو ہے!"
"مگر شہر کے جو مفتی صاحب ہیں، مفتی یہقوب صاحب، وہ بڑی شد و مد کے ساتھ اسکی مخالفت کررہے ہیں،وہ دار العلوم دیوبند کے فتوے کی رو سے آپ پر مسجد میں حرام اور ناجائز کام کرنے کا مبینہ الزام لگارہے ہیں۔ بڑے سخت لب و لہجے میں وہ آپ کا رد کرتے پھر رہے ہیں"
"اوہ۔۔۔ اچھا اچھا"
یہ کہہ چچا چھکن نے نیم درازی سے بیٹھتے ہوئے منھ میں موجود پان کے باقیات اگلدان میں تھوکے اور دوسرا پان لگاتے ہوئے پوچھا:
"تو تم کس کی طرف ہو؟ "
"گستاخی کی معافی ہو چچا جان۔۔۔ مجھ کم عقل کو بھی مفتی صاحب کی بات صحیح لگتی ہے "
"اچھا"
اس کے بعد خاموشی کے ساتھ چچا چھکن نے ساری توجہ پان بنانے کی طرف رکھی، پان لگ چکا تو منھ میں رکھا اور باطمنان نیم دراز ہوئے،چند ساعت پان کا مزا لیا پھر فرمایا
"میاں صاحب زادے..........! دار العلوم کا فتوی تو ہمیں بھی معلوم ہے۔۔۔ ہم اُس فتوے کی مخالفت کہاں کررہے؟۔۔۔۔۔ ہم اُسکا مکمل احترام کرتے ہیں مگر اس پر عمل پیرا نہیں ہیں، اپنے عمل کیلئے ہم نے پاکستان کے ایک وقیع ادارے کے شیخ الحدیث صاحب کے فتوے کو منتخب کیا ہے۔ ہماری ناقص رائے میں یہ فتوی زمانے کے تقاضوں سے زیادہ ہم آہنگ ہے ۔۔۔۔۔رہی بات دار العلوم کے فتوے کی تو ہم نہ اس کے مخالف ہیں نہ اُس فتوے پر عمل کرنے والوں کے"
"مگر چچا جان! مفتی یہقوب صاحب شیخ الحدیث صاحب کے اس فتوے کو نہیں مان رہے۔۔۔۔ ساتھ ساتھ وہ یہ بھی فرما رہے ہیں کہ یہ بات بالکل نامناسب ہے کہ دار العلوم کے فتوے کو چھوڑ کر کسی ایک کی رائے پر عمل کیا جائے۔۔۔۔ عمل تو دار العلوم ہی کی رائے پر کیا جانا چاہئیے۔۔۔۔ مفتی صاحب کی یہ بات چچا جان عقل کو لگتی ہے"
"ویسے تو مفتی یہقوب صاحب بڑے آدمی ہیں، فارغ التحصیل ہیں، افتا بھی کئے ہوئے ہیں۔۔۔۔ مگر مفتی صاحب کی باتیں میرے حلق سے نیچے نہیں اتر رہیں۔۔۔۔ وہ تضاد بیانی سے کام لے رہے ہیں "
"تضاد بیانی کیسی چچا جان؟؟؟؟ "
"یہ بتاؤ مفتی یہقوب صاحب ٹی وی پر آتے ہیں یا نہیں؟؟۔۔۔۔ اخبار میں انکی تصاویر آتی ہیں یا نہیں؟؟ "
"جی آتے ہیں۔۔۔۔ دونوں جگہ آتے ہیں "
"اور تصویر کے باب میں دار العلوم کا فتوی کیا ہے؟ "
"ابھی تک تو ناجائز ہی کہتا ہے دار العلوم ! "
"صحیح۔۔۔ ایک مثال اور لو۔۔۔۔۔۔ مفتی یہقوب صاحب کی اہلیہ محترمہ جماعت میں جاتی ہیں یا نہیں؟؟
"
"جی۔۔۔۔ جاتی ہیں! "
"
"جی۔۔۔۔ جاتی ہیں! "
"اور دار العلوم کا فتوی؟؟ "
"یہاں بھی ناجائز! "
"جب دونوں جگہ دار العلوم ناجائز اور حرام کہہ رہا ہے تو کیوں وہ ٹی وی پر آرہے ہیں،اخباروں میں دکھ رہے ہیں اور کیوں انکی مستورات جماعت میں جارہی ہیں؟؟؟ "
میں سر کھجاتے ہوئے
"یہ تو مجھے معلوم نہیں۔۔۔ مفتی صاحب ہی اپنے عمل کے بارے میں بتا سکتے ہیں "
"تو دریافت کرو ان سے۔۔۔۔ نمبر تو ہوگا ہی تمہارے پاس ان کا.......... !؟ "
"جی نمبر تو ہے"
" نمبر ہے تو فون لگاؤ انکو! اور اسپیکر اون کرکے فون لگاؤ، اور ابھی ہم نے تم سے جو دو سوال پوچھے وہی ان سے پوچھو"
نمبر لگایا گیا۔۔۔۔ ساتھ ہی اسپیکر بھی اون کردیا گیا۔۔۔ فون اٹھا۔۔۔۔ علیک سلیک ہوئی۔۔ بعد علیک سلیک کے
"مفتی صاحب! میں آپکی رمضان نشریات دیکھ رہا ہوں، اخباروں میں بھی آپ کے کالم پڑھ رہا ہوں۔۔۔ ما شاء اللہ بہت فائدہ ہورہا ہے۔۔۔ اللہ سبحانہ و تعالی آپکو شایان شان بدلہ عنایت فرمائیں "
"شکریہ، بہت بہت شکریہ۔۔۔۔ بس یہ آپ جیسے مخلص محبان گرامی قدر کی محبت و خلوص اور اللہ کی عطا ہے۔۔۔ اللہ جس سے چاہے کام لے لے۔۔ دعاؤں کی درخواست رہے گی "
"جی ضرور مفتی صاحب۔۔۔ آپ سے بھی درخواست ہے۔۔۔۔ وہ ایک مسئلہ دریافت کرنا تھا، اگر قیمتی وقت میں کچھ وقت عنایت فرما دیں تو عرض کروں ۔۔۔"
"جی جی۔۔۔ ارشاد کیجئے "
مفتی صاحب تصویر کے بارے میں جاننا چاہ رہا تھا، اسکا کیا حکم
ہے؟؟ " "خیریت تو ہے سب..........؟؟؟ کیوں پوچھ رہے" "جی
سب خیریت ہے۔۔۔ وہ در اصل ابھی ایک صاحب نے بتایا کہ دار العلوم کا فتوی تصویر کی
بابت عدم جواز کا ہے۔۔۔۔ میں نے کہا ایسا نہیں ہوسکتا۔۔ ہمارے مفتی صاحب ٹی وی پر آتے
ہیں، اگر عدم جواز کا ہوتا تو وہ کیسے آسکتے تھے؟؟ " "نہیں،انکی بات صحیح
ہے۔۔۔۔ بیشک دار العلوم کا فتوی عدم جواز ہی کا ہے" "مگر پھر آپ مفتی
صاحب؟؟ " "ہم دار العلوم کے فتوے کے مکمل احترام کے ساتھ عمل پیرا پاکستان
کے ایک مؤقر ادارے کے شیخ الحدیث صاحب کے فتوے پر ہیں۔۔۔ دار العلوم کے فتوے کا ہم
اپنے دل میں مکمل احترام رکھتے ہیں اور اِس فتوے پر عمل پیرا لوگوں کا بھی، مگر ہم
زمانے کے تقاضوں کے مطابق جس فتوے کو سمجھتے ہیں اس پر دل کی پوری طہارت کے ساتھ عمل
کرتے ہیں " "ٹھیک ٹھیک۔۔۔۔۔ بہتر مفتی صاحب" مری ہوئی آواز میں
ہم نے کہا۔۔۔۔۔۔ اس دوران میں چچا چھکن نے ہماری طرف دو انگلیوں سے اشارہ کیا،گویا
وہ زبانِ اصابع سے کہہ رہے تھے کہ دوسرا مسئلہ بھی پوچھو۔۔۔ ہماری پھونک ویسی ہی نکل
چکی تھی مگر چونکہ چچا جان کا حکم تھا اس لئے اسکی تعمیل ضروری ٹھہری۔ چنانچہ مفتی
صاحب کو مستورات کی جماعت والے مسئلے میں ایک بار پھر گھیرنا پڑا۔ بڑی مشکل سے گھرے۔
یہاں بھی یہی فرمایا: "بیشک دار العلوم کا محقق فتوی مستورات کی جماعت کے
بارے میں عدم جواز کا ہی ہے۔ مگر ہم دار العلوم کے فتوے کے مکمل احترام کے ساتھ پاکستان
کے شیخ الحدیث اور مفتی گنگوہیؒ کے فتوے پر عمل پیرا ہیں، ہمیں جواز والوں کا فتوی
اسلام کی روح سے ہم آہنگ لگتا ہے اس لئے قلب و نظر کی مکمل طہارت کے ساتھ اسے عمل کیلئے
منتخب کیا ہے " "بہتر بہت بہتر مفتی صاحب۔۔۔۔ قیمتی وقت دینے کیلئے شکریہ۔۔
جزاکم اللہ احسن الجزاء۔۔۔۔ دعاؤں کی درخواست ہے۔۔۔ السلام علیکم " "و
علیکم السلام و رحمة اللہ" ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کال منقطع کرنے کے بعد تو ہماری رہی سہی پھونک بھی نکل گئی،
پھونک کیا جان کہئیے۔۔۔ چچا چھکن نے بہت بلوانا چاہا مگر بولتے تو کیا بولتے۔۔۔۔ ہم
تو چچا چھکن کو گھیرنے آئے تھےمگر.... پانچ سات منٹ تک قبرستان کی سی خاموشی چھائی
رہی۔۔۔۔۔ فون ایک بار پھر بج اٹھا۔۔۔ ہمارے ساتھ چچا چھکن بھی متوجہ ہوگئے۔۔۔ موبائل
نکال کر جو دیکھا تو "وزیر داخلہ" لکھا ہوا آرہا تھا۔۔۔ ہم نے فون کو
پشت سے پکڑ کے اسکی اسکرین چچا چھکن کی طرف زبان حال سے یہ کہتے ہوئے کی کہ گھر سے
فون ہے اجازت چاہیں گے۔۔۔ چچا چھکن نے بڑی زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا "جی
جی، ضرور بالضرور۔۔۔۔ سب سے پہلے؛ گھر والی" اور یوں ہم صوم رمضان کے ساتھ صومِ
مریم بھی رکھ کر خاموشی کی چھتری تانے گھر کی طرف رواں دواں ہو۔
راہی حجازی
راہی حجازی










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔